انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے اکتوبر کے لیے ویمنز پلیئر آف دی منتھ ایوارڈ کے لیے تین نامزد کھلاڑیوں کا اعلان کیا ہے، جن میں بھارت، بنگلہ دیش اور آسٹریلیا کی ٹاپ پرفارمرز شامل ہیں۔ یہ شارٹ لسٹ بین الاقوامی کرکٹ کے مصروف مہینے کے دوران ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی فارمیٹس میں انفرادی مہارت کو اجاگر کرتی ہے۔
بھارتی آل راؤنڈر دیپتی شرما نے زمبابوے کے خلاف شاندار سیریز کے بعد نامزدگی حاصل کی۔ 29 سالہ کھلاڑی نے وڈودرا میں اپنی دوسری ون ڈے سنچری اسکور کی، جہاں انہوں نے تین وکٹیں بھی حاصل کیں اور بھارت کو 121 رنز سے فتح اور سیریز میں کامیابی دلائی۔
دیپتی کی خدمات ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ تک بھی پھیلی ہوئی تھیں، جہاں انہوں نے رائے پور میں سیریز کے افتتاحی میچ میں تیز رفتار 49 رنز بنائے۔ پورے مہینے میں بلے اور گیند دونوں کے ساتھ میچوں پر اثر انداز ہونے کی ان کی مستقل صلاحیت افریقی ٹیم کے خلاف بھارت کی کامیاب مہم میں مرکزی حیثیت رکھتی تھی۔
بنگلہ دیش کی بیٹر سوبھنا مستری بھی آسٹریلیا کے دورے کے دوران تاریخ رقم کرنے کے بعد مقابلے میں شامل ہیں۔ مستری نے برسبین میں 134 گیندوں پر 118 رنز بنائے، جو بنگلہ دیشی ویمن کھلاڑی کا ون ڈے میں کسی بھی انفرادی اننگز کا نیا ریکارڈ ہے۔
سیریز کے نتائج کے باوجود، مستری کی کارکردگی دورے کا ایک اہم پہلو رہی، کیونکہ انہوں نے تین ون ڈے میچوں میں 43 کی اوسط سے 129 رنز بنائے۔ ان کی اننگز میں 18 چوکے شامل تھے، جس نے ایک اعلیٰ معیار کے بولنگ اٹیک کے خلاف کارکردگی دکھانے کی ان کی صلاحیت کو ثابت کیا۔
آسٹریلیا کی اینابیل سدرلینڈ بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ دونوں کے خلاف ایک غالب مہینے کے بعد شارٹ لسٹ مکمل کرتی ہیں۔ 25 سالہ آل راؤنڈر نے بنگلہ دیش کے خلاف ون ڈے سیریز کے افتتاحی میچ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چار وکٹیں حاصل کیں اور ناقابل شکست 25 رنز بنائے۔
سدرلینڈ نے سیریز کے آخری میچ میں بھی اپنی فارم برقرار رکھی اور ناقابل شکست 74 رنز بنائے اور دو وکٹیں حاصل کیں۔ انہوں نے نیوزی لینڈ کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز میں بھی حصہ لیا، اور 50 اوور کے فارمیٹ میں مجموعی طور پر 99 رنز اور چھ وکٹوں کے ساتھ ایک نتیجہ خیز مہینہ مکمل کیا۔
آئی سی سی ووٹنگ کی بنیاد پر فاتح کا فیصلہ کرے گا، اور یہ ایوارڈ بین الاقوامی سطح پر سب سے زیادہ اثر انگیز کارکردگی کو تسلیم کرتا ہے۔ ان کھلاڑیوں نے آنے والے بین الاقوامی شیڈول کے پیش نظر اپنی متعلقہ ٹیموں کے لیے ایک اعلیٰ معیار قائم کیا ہے۔
پاکستان کے لیے، ان کھلاڑیوں کی پذیرائی ویمنز کرکٹ میں مسابقتی معیار کی یاد دہانی کراتی ہے۔ جیسے جیسے پاکستان اپنی ٹیم کو ترقی دے رہا ہے، دیپتی اور سدرلینڈ جیسی عالمی اسٹارز کی فارم پر نظر رکھنا مستقبل کی دو طرفہ سیریز کے لیے حکمت عملی کی منصوبہ بندی میں ضروری ہے۔





گفتگو میں شامل ہوں